بدھ 11 فروری 2026 - 20:03
کیا ایران کے نوجوان انقلاب اسلامی سے نالاں ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

حوزہ/ آج کا ایرانی نوجوان اگر مہنگائی، بے روزگاری، سماجی پابندیوں یا حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان اصولوں کو رد کر رہا ہے۔ وہ ریاستی ڈھانچے کی کارکردگی کا جائزہ لے رہا ہے، نظریے کا انکار نہیں۔

تحریر: سید انجم رضا

حوزہ نیوز ایجنسی| گزشتہ چند برسوں سے ایک جملہ مسلسل دہرایا جا رہا ہے کہ ایران کی نوجوان نسل انقلاب اسلامی سے برگشتہ ہو چکی ہے، نظریاتی وابستگی کمزور پڑ رہی ہے اور ریاست محض سختی اور طاقت کے سہارے قائم ہے، اور ایران کے بارے میں ایک جملہ آج کل بہت آسانی سے اچھال دیا جاتا ہے:

“نوجوان نسل انقلاب اسلامی سے تنگ آ چکی ہے، نظریہ دم توڑ رہا ہے، نظام صرف طاقت کے زور پر کھڑا ہے۔”

یہ باتیں سننے میں بڑی وزنی لگتی ہیں، مگر اکثر اوقات یہ تجزیہ کم اور بیانیہ زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بیانیہ میڈیا مباحث، سیاسی تجزیوں اور سوشل میڈیا گفتگو میں شدت کے ساتھ نظر آتا ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ مکمل تصویر ہے؟ یا یہ ایک ایسی سادہ کاری ہے جو پیچیدہ سماجی و سیاسی حقیقت کو چند نعروں میں سمیٹ دیتی ہے؟

کسی بھی معاشرے کو سمجھنے کے لیے جذباتی ردعمل کافی نہیں ہوتا؛ تاریخی تسلسل، نظریاتی پس منظر اور سماجی تبدیلی کے عمل کو ساتھ دیکھنا پڑتا ہے۔ ایران کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔

انقلاب اور ریاست و حکومت — دو الگ سطحیں

سب سے پہلے ایک بنیادی فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ انقلاب ایک نظریہ ہوتا ہے، ایک سمت، ایک نصب العین؛ جبکہ ریاست و حکومت اس نظریے کو عملی شکل دینے کی انسانی کوشش۔ انسانی کوشش میں خامیاں، رکاوٹیں اور کمزوریاں فطری ہیں۔ لہٰذا ریاستی و حکومتی کارکردگی پر تنقید کو انقلاب کے نظریے سے بغاوت سمجھ لینا درست تجزیہ نہیں۔

انقلاب اسلامی ایران کے بنیادی اصول تھے: قومی خودمختاری، بیرونی تسلط سے آزادی، اسلامی شناخت کا تحفظ، استکباری نظام کے مقابل مزاحمت اور سماجی انصاف۔

آج کا ایرانی نوجوان اگر مہنگائی، بے روزگاری، سماجی پابندیوں یا حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان اصولوں کو رد کر رہا ہے۔ وہ ریاستی ڈھانچے کی کارکردگی کا جائزہ لے رہا ہے، نظریے کا انکار نہیں۔

نئی نسل کا مزاج — جذبات سے نتائج تک

ہر انقلاب کی پہلی نسل جذباتی ہوتی ہے، دوسری نسل عملی

۔ 1979 کی نسل نے ایک نظام کو بدلنے کا عزم کیا تھا؛ آج کی نسل اس تبدیلی کے نتائج اپنی روزمرہ زندگی میں دیکھنا چاہتی ہے۔ یہ سوال کہ “قربانیوں کا ثمر عوامی معیارِ زندگی میں کیوں نظر نہیں آ رہا؟” دراصل سیاسی بلوغت کا اظہار ہے۔

آج کا ایرانی نوجوان یہ نہیں کہہ رہا کہ انقلاب غلط تھا۔

وہ کہہ رہا ہے:

“انقلاب کے اصول درست ہیں، مگر ان پر عمل کی رفتار کمزور ہے۔”

نوجوانوں کی یہ سوچ بغاوت نہیں بلکہ ارتقائی مرحلہ ہے۔ وہ انقلاب کو ایک مقدس تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک جاری عمل سمجھتے ہیں، جس میں اصلاح، احتساب اور کارکردگی کی ضرورت مسلسل باقی رہتی ہے۔

یقینا یہ سوال بہت اہم ہے کہ :

کیا واقعی نوجوان انقلاب سے دور ہوئے ہیں، یا وہ نظام کی کارکردگی سے مطمئن نہیں؟

یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے، ورنہ ہم حقیقت کے بجائے پروپیگنڈا دہراتے رہیں گے۔

نوجوانوں کی تحرک آمیز شمولیت

ایران کے بارے میں بیرونی دنیا کو عموماً احتجاج، بے چینی اور اختلاف کی خبریں زیادہ دکھائی دیتی ہیں، جبکہ معاشرے کی دوسری جہت کم نمایاں کی جاتی ہے۔ ایران کی جامعات، تحقیقی ادارے، ٹیکنالوجی سیکٹر اور سائنسی منصوبے بڑی حد تک نوجوانوں کے ہاتھ میں ہیں۔ دفاعی خود کفالت، سائنسی پیش رفت اور تکنیکی ترقی صرف حکومتی نعروں سے ممکن نہیں ہوتیں؛ ان کے پیچھے نوجوان افرادی قوت کی عملی شرکت ہوتی ہے۔

اگر نئی نسل مکمل طور پر نظام سے کٹ چکی ہوتی تو یہ مسلسل سائنسی اور تکنیکی سرگرمیاں برقرار نہ رہتیں۔ یہ پہلو اس بیانیے کو کمزور کرتا ہے کہ نوجوانوں نے انقلاب سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔

میڈیا جو دکھاتا ہے، اور جو نہیں دکھاتا

اگر نوجوان مکمل طور پر نظام سے کٹ چکے ہوتے تو:

ایران سائنسی میدان میں پابندیوں کے باوجود آگے نہ بڑھتا

میزائل ٹیکنالوجی میں خود کفالت ممکن نہ ہوتی

یونیورسٹیوں اور ریسرچ سینٹرز میں نوجوانوں کی بھرمار نہ ہوتی

خطے میں ایران کا اثر برقرار نہ رہتا

احتجاج دکھانا آسان ہے، مگر لیبارٹری میں کام کرتا نوجوان کیمرے پر نہیں آتا۔

سائنسی کامیابیاں ہیش ٹیگ نہیں بنتیں۔

عالمی ثقافت اور نظریاتی شناخت کی کشمکش

ایرانی نوجوان دو دنیاؤں کے بیچ کھڑا ہے:

ایک طرف:

اسلامی انقلابی شناخت، مزاحمت، اجتماعی اقدار

دوسری طرف:

ڈیجیٹل کلچر، لبرل انفرادیت، فوری آسائش، عالمی صارفیت( گلوبل کنزیومرازم)

ایرانی نوجوان صرف ایک نظریاتی ریاست کا شہری نہیں بلکہ ایک گلوبل ڈیجیٹل دنیا کا بھی حصہ ہے۔ اس کے سامنے دو متوازی تصورات موجود ہیں: ایک طرف اجتماعی شناخت، مزاحمت اور تہذیبی خودمختاری؛ دوسری طرف انفرادیت، صارفیت اور فوری آسائش کی عالمی ثقافت۔ یہ کشمکش ایران تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے معاشروں میں موجود ہے۔ فرق یہ ہے کہ ایران کی ریاستی شناخت نظریاتی ہے، اس لیے یہ تضاد زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

کیا مذہب سے دوری کی بات درست ہے؟

یہ کہنا کہ نوجوان مذہب سے مکمل طور پر دور ہو رہے ہیں، یک طرفہ دعویٰ ہے۔ مذہبی اور نظریاتی وابستگی کے اظہار کے طریقے بدل رہے ہیں۔ شناخت، سماجی انصاف، مزاحمتی بیانیے اور علاقائی مسائل پر موقف کے ذریعے بھی نظریاتی وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔ اس تبدیلی کو محض “دوری” کہنا تجزیاتی طور پر ناکافی ہے۔

محرم، اربعین، فلسطین کے مسئلے پر عوامی جذبات، مزاحمتی بیانیے کی حمایت،یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ نظریاتی جڑیں باقی ہیں، صرف سماجی انداز بدل رہا ہے۔

اصل چیلنج کہاں ہے؟

ایران کو درپیش اصل مسئلہ نظریہ نہیں بلکہ انتظامی ڈھانچے کی کمزوریاں ہیں: معاشی دباؤ، بیوروکریسی کی پیچیدگی، بدانتظامی اور عوامی توقعات میں اضافہ۔ جب نظریاتی وعدوں اور عملی کارکردگی میں فرق بڑھتا ہے تو سماجی بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ یہ کیفیت کسی بھی نظریاتی ریاست میں ایک فطری مرحلہ ہوتی ہے۔

نوجوان انقلاب کو گرانا نہیں چاہتے، وہ اسے بہتر دیکھنا چاہتے ہیں

ایرانی نوجوانوں کو انقلاب اسلامی سے برگشتہ قرار دینا ایک سادہ سیاسی بیانیہ ہے جو زمینی حقیقت کی گہرائی کو نظر انداز کرتا ہے۔

زیادہ درست بات یہ ہے کہ نئی نسل نظریے کو رد نہیں کر رہی بلکہ اسے بہتر عملی صورت میں دیکھنا چاہتی ہے۔ وہ انقلاب کو گرانے نہیں بلکہ اس کے وعدوں کو پورا ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔ اور ہر نظریاتی ریاست کو اس مرحلے سے گزرنا ہی پڑتا ہے

یہ کسی نظریاتی نظام کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کا ارتقائی مرحلہ ہے۔ انقلاب جذباتی تحریک سے ریاستی حقیقت بن چکا ہے، اور اب اس کی آزمائش نعروں سے نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور کارکردگی سے ہوگی۔

انقلاب اب صرف ایک تحریک نہیں، ایک ریاستی حقیقت ہے۔ اور نئی نسل اسے جذباتی نعروں کے بجائے عملی نتائج کے پیمانے پر دیکھ رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha